Thursday, 21 November 2019

بہنوں بیٹیوں کے گھر کا پانی پینا حرام نہیں ہے لیکن

www.swatsmn.com

شادی کے کئی سال بعد اابا اور بھائی اسکے گھر آرہے تھے،
وہ بہت خوش تھی، کئی پکوان تیار کیے تھے، مشروب بنائے تھے، خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی، اللہ اللہ کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں...!!!!
وہ بڑے شوق سے انکو بیٹھک (ڈرائینگ روم) میں لیکر آئی، باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، بھائیوں نے بھی حال چال پوچھا وہ جلدی سے ٹھنڈے مشروب لے آئی...!!!!
"ناں پتر " باپ نے دیکھتے ہی کہا"
ہمارے خاندان میں بیٹیوں کے گھر کا پانی بھی حرام سمجھا جاتا ہے، اسے واپس لے جا، ہم تو تجھے دیکھنے آئے تھے بس اب چلتے ہیں" یہ کہہ کر ابا اور بھائی واپس چلے گئے اور اسے وہ دن یاد آگیا جب وہ دلہن بنی بیٹھی تھی کمرے میں اس کی سہیلیاں خوش گپیوں میں مصروف اسے چھیڑ رہی تھیں کہ ابا اور بھائی آگئے تھے...!!!!
"دیکھ پتر" ابا نے اس سے مخاطب ہو کر کہا تھا"
ہمارے خاندان کی ریت ہے کہ شادی سے پہلے بیٹیاں اپنی جائیداد سے دستبرداری کرتی ہیں لے پتر تو بھی اس کاغذ پر سائن کردے۔" اور پھر اس سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کروا لیے گئے تھے...!!!!
اور اب وہ چپ چاپ کھڑی یہی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیسی ریت کیسا رواج ہے کہ بیٹیوں کے گھر کا پانی پینا تو حرام ہے پر ان کی جائیداد کا حصہ ہڑپ کرنا حلال ہے، بہن بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیجئے کیونکہ یہ انسان کا نہیں بلکہ قرآن کا فیصلہ ہے
#ذراسوچیے#


بہنوں بیٹیوں کے گھر کا پانی پینا حرام نہیں ہے
لیکن
بہن بیٹیوں کی جائیداد ہڑپ کر جانا کنفرم حرام ہے

Tuesday, 19 November 2019

۔۔بڑے لوگ کیوں بڑے ھوتے ہیں

www.swatsmn.com
۔۔۔۔۔۔بڑے لوگ کیوں بڑے ھوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ایڈسن (Thomas Alva Edison) کو دنیا جانتی ہے کہ انہوں نے الیکٹرک بلب ایجاد کیا
جب وہ ہزارویں تجربہ کے بعد بلب بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اسکو لگانے کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے آفس کے چپڑاسی کو وہ بلب دیا کہ جاؤ یہ ٹیسٹ کرو۔ وہ لڑکا اتنا نروِس ہوا کہ غلطی سے اس سے بلب گر کر ٹوٹ گیا ۔سب بہت حیران ہوئے
ایڈیسن اگلے دن ایک اور بلب بنا لائے اور اسی لڑکے کو دیا کہ جاؤ یہ بلب ٹیسٹ کرو
بعد میں ساتھیوں نے پوچھا کہ جناب آپ یہ بلب کسی اور کو بھی دے سکتے تھے آپ نے اسی کو کیوں دیا جس سے کل بلب ٹوٹا تھا؟
ایڈیسن نے آبِ زر سے لکھے جانے والا جواب دیا کہ "مجھے ٹوٹے ہوئے بلب کی جگہ نیا بلب بنانے میں 24 گھنٹے لگے لیکن اگر آج میں اسکو بلب نہ دیتا تو شاید اسکی خود اعتمادی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتی، جو کہ میں نہیں چاہتا "
بڑے لوگ بظاہر چھوٹے نظر آنے والوں کا بھی خیال رکھا کرتے ہیں، تبھی تو بڑے ہوتے ہیں.
منقول

Friday, 15 November 2019

غلطی انسان سے ہوتی ہے جو غلطی نہیں کرتے وہ تو فرشتے ہوتے ہیں۔

www.swatsmn.com

غلطی انسان سے ہوتی ہے جو غلطی نہیں کرتے وہ تو فرشتے ہوتے ہیں۔ عظیم انسان وہ ہے جو اپنے غلطی سے سیکھتا ہے اور اپنے کئے پر انہیں پچھتاوا ہوتا ہے۔ زندگی سے منہ مڑنے کے بجائے اپنی گناہوں سے توبہ کر لیتی ہے اور زندگی ایک نئے سرے سے شروع کر لیتی ہے۔ ہمیں دوسروں کی عیب ڈھونڈنے کے بجائے اپنے گریباں میں بھی جھانکنا چاہئیے یہ خیال کرنا چاہئیے کہ ہم نے اپنی پوری زندگی میں کتنی گناہیں کی ہے اور کتنے خطائیں ہم سے ہوئی ہے اگر اللہ پاک ان سے پردہ ہٹا دے تو ہم پر کیا گزری گی۔یہ تو وہ غفور ورحیم زات ہے جنہوں نے ہماری گناہوں اور خطاوں کو چھپایا ہے اگر ان میں سے ایک گناہ سے بھی پردہ اٹھ گیا تو ہم رہنے کے قابل بھی نہیں رہے گے۔اس لئے دوسروں کی گناہوں اور خطاووں پر تبصرہ کرنے کے بجائے ہمیں اپنی اصلاح بھی کرنی چاہئیے کیونکہ ہم سب اللہ پاک کے گناہ گار اور خطا کار بندے ہیں۔ میں تو اس خاتون کو اپنے آپ سے کئی گناہ اچھا اور عظیم سمجھتا ہو کیونکہ میں ان سے زیادہ گناہ گار ، خطا کار اور انتہائی کمزور ہو ۔اگر ہم سب ایک لمحے کے لئے اپنے گناہوں کو سامنے رکھے اور خیال کرے کہ خدا نخواستہ اس میں ایک بھی عیاں ہو جائے تو ہمارے کیا احساسات اور جذبات ہونگے۔ اس لئے دوسروں کا احساس کرتے ہوئے ان کی زندگیوں کا مزاق نہ اڑایہ کریں اگر آپ کچھ اچھا نہیں کر سکتے تو دوسروں کی برائی سے گریز کریں۔کیونکہ یہ وقت کسی پر بھی آسکتا ہے۔ بس اللہ پاک سے یہی دعا مانگا کریں کہ اللہ پاک ہمارے گناہوں کو اور خطاوں کو تو اپنے ساتھ راز میں رکھیں اور ہمیں کھبی بھی دوسروں کے سامنے ذلیل اور رسوا نہ کرے۔کیونکہ ہمارا معاشرہ پھر جینے نہیں دیتی۔اللہ پاک فرماتے ہیں کہ تم دوسروں کے عیب پر پردہ ڈالو میں تمہارے گناہوں اور خطاوں کو چھپاونگا۔اللہ پاک تمام ماوں، بہنوں، بیٹیوں اور بھائیوں کی عزتیں اور ناموس اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔اللہ پاک کسی کو بھی بے پردہ نہ کریں اور ہمیں دوسروں کا احساس اس طرح کرنا چاہئیے جو ہم اپنے لئے سوچتے ہیں کیونکہ زندگی میں احساس ہی وہ عمل ہے جو جینے کا طریقہ سکھاتی ہے ۔ آمین ثمہ آمین ۔۔۔



#RabiPirZada #StayStrong #WeAreBad #YouAreTooGood #StaySafe #Humanity

Thursday, 7 November 2019

اس دنیا نے تمھیں نجات نہ دی، حتیٰ کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔

www.swatsmn.com
کہتے ہیں کہ ہارون رشید ؒکا ایک بیٹا تھا
جس کی عمر تقریباً سولہ سال کی تھی۔
وہ بہت کثرت سے
زاہدوں اور بزرگوں کی مجلس میں رہا  کرتا تھا،
اور اکثر قبرستان چلا جاتا،
وہاں جا کر کہتا کہ۔۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 تم لوگ ہم سے پہلے دنیا میں تھے،
دنیا کے مالک تھے،
لیکن اس دنیا نے تمھیں نجات نہ دی،
 حتیٰ کہ تم قبروں میں پہنچ گئے۔
کاش❗
 مجھے کسی طرح خبر ہوتی کہ تم پر کیا گذری ہے اور تم سے کیا کیا سوال و جواب ہوئے ہیں❓
اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتا ؎
تَرُوْعُنِيَ الْجَنَائِزُ کُلَّ یَوْ مٍ
وَیَحْزُنُنِيْ بُکَائُ النَّائِحَات
مجھے جنازے ہر دن ڈراتے ہیں
اور مرنے والوں پر رونے والیوں کی آوازیں مجھے غمگین رکھتی ہیں۔

ایک دن،،،،،،،،،،،،
 وہ اپنے باپ ( بادشاہ) کی مجلس میں آیا۔
اس کے پاس وزراء، اُمراء سب جمع تھے اور لڑکے کے بدن پر ایک کپڑا معمولی اور سر پر ایک لنگی بندھی ہوئی تھی۔
 آراکینِ سلطنت آپس میں کہنے لگے کہ
 اس پاگل لڑکے کی حرکتوں نے امیر المؤمنین کو بھی دوسرے بادشاہوں کی نگاہ میں ذلیل کر دیا۔
اگر امیر المؤمنین اس کو تنبیہ کریں تو شاید یہ اپنی اس حالت سے باز آجائے۔
 امیر المؤمنین نے یہ بات سن کر اس سے کہا کہ
 بیٹا❗ تو نے مجھے لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل کر رکھا ہے۔
 اس نے یہ با ت سن کر باپ کو تو کوئی جواب نہیں دیا،
لیکن   '''''''''''''
ایک پرندہ وہاں بیٹھا تھا اس کو کہا کہ
اس ذات کا واسطہ جس نے مجھے پیدا کیا تو میرے ہاتھ پر آکر بیٹھ جا۔
وہ پرندہ وہاں سے اُڑ کر اس کے ہاتھ پر آکر بیٹھ گیا۔
 پھر کہا کہ اب اپنی جگہ پر واپس چلا جا۔
 وہ ہاتھ پر سے اُڑ کر اپنی جگہ چلا گیا۔
اس کے بعد اس نے عرض کیا کہ
ابا جان❗
اصل میں آپ دنیا سے جو محبت کر رہے ہیں اس نے مجھے رسوا کر رکھا ہے۔۔❗
 اب میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ آپ سے جدائی اختیار کر لوں۔
 یہ کہہ کر وہاں سے چل دیا
 اور ایک قرآن شریف صرف اپنے ساتھ لیا۔
چلتے ہوئے ماں نے ایک بہت قیمتی انگوٹھی بھی اس کو دے دی (کہ اِحتیاج کے وقت اس کو فروخت کرکے کام میں لائے) وہ یہاں سے چل کر

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بصرہ پہنچ گیا ۔۔۔۔۔۔۔

اور مزدوروں میں کام کرنے لگا۔
 ہفتہ میں صرف ایک دن شنبہ کو مزدوری کرتا اور آٹھ دن تک وہ مزدوری کے پیسے خرچ کرتا اور آٹھویں دن پھر شنبہ کو مزدوری کر لیتا۔
 اور ایک دِرَم اور ایک دانق
 (یعنی دِرَم کا چھٹا حصہ مزدوری لیتا) اس سے کم یا زیادہ نہ لیتا۔ ایک دانق روزانہ خرچ کرتا۔

ابو عامر بصری ؒکہتے ہیں کہ
 میری ایک دیوار گر گئی تھی۔ اس کو بنوانے کے لیے میں کسی معمار کی تلاش میں نکلا۔ (کسی نے بتایا ہوگا کہ یہ شخص بھی تعمیر کا کام کرتا ہے)
میں نے دیکھا کہ نہایت خوبصورت لڑکا بیٹھا ہے، ایک زنبیل پاس رکھی ہے اور قرآن شریف دیکھ کر پڑھ رہا ہے۔
میں نے اس سے پوچھا کہ
لڑکے مزدوری کرو گے❓
 کہنے لگا:
کیوں نہیں ❗کریں گے، مزدوری کے لیے تو پیدا ہی ہوئے ہیں۔ آپ بتائیں کہ کیا خدمت مجھ سے لینی ہے❓
 میں نے کہا: گارے مٹی (تعمیر) کا کام لینا ہے۔
 اس نے کہا کہ ایک دِرَم اور ایک دانق مزدوری ہوگی اور نماز کے اوقات میں کام نہیں کروں گا، مجھے نماز کے لیے جانا ہوگا۔
 میں نے اس کی دونوں شرطیں منظور کر لیں اور اس کو لا کر کام پر لگا دیا۔
مغرب کے وقت جب میں نے دیکھا تو اس نے دس آدمیوں کی بقدر کام کیا۔
 میں نے اس کو مزدوری میں دو دِرَم دیے۔
اس نے شرط سے زائد لینے سے انکار کر دیا،
 اور ایک دِرَم اور ایک دانق لے کر چلا گیا۔

دوسرے دن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں پھر اس کی تلاش میں نکلا۔ وہ مجھے کہیں نہ ملا۔ میں نے لوگوں سے تحقیق کیا کہ ایسی ایسی صورت کا ایک لڑکا مزدوری کیا کرتا ہے، کسی کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ملے گا❓
 لوگوں نے بتایا کہ وہ صرف شنبہ ہی کے دن مزدوری کرتا ہے، اس سے پہلے تمھیں کہیں نہیں ملے گا۔
 مجھے اس کے کام کو دیکھ کر ایسی رغبت ہوئی کہ میں نے آٹھ دن کو اپنی تعمیر بند کر دی اور شنبہ کے دن اس کی تلاش کو نکلا۔
 وہ اسی طرح بیٹھا قرآن شریف پڑھتا ہوا ملا۔
 میں نے سلام کیا اور مزدوری کرنے کو پوچھا۔
اس نے وہی پہلی دو شرطیں بیان کیں۔
میں نے منظور کر لیں۔
وہ میرے ساتھ آکر کام میں لگ گیا۔
 مجھے اس پر حیرت ہو رہی تھی کہ پچھلے شنبہ کو اس اکیلے نے دس آدمیوں کا کام کس طرح کر لیا۔
 اس لیے اس مرتبہ میں نے اسی طرح چھپ کر کہ وہ مجھے نہ دیکھے، اس کے کام کرنے کا طریقہ دیکھا،
 ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تو یہ منظر دیکھا کہ۔۔۔۔۔
 وہ ہاتھ میں گارا لے کر دیوار پر ڈالتا ہے
 اور پتھر اپنے آپ ہی ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے چلے جاتے ہیں۔
مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کوئی اللّٰہ کا ولی ہے اور اللّٰہ کے اَولیا کے کاموں کی غیب سے مدد ہوتی ہی ہے۔
 جب شام ہوئی تو میں نے اس کو تین دِرَم دینا چاہے۔ لیکن اس نے لینے سے انکار کر دیا
 کہ میں اتنے دِرَم کیا کروں گا❓اور ایک دِرَم اور ایک دانق لے کر چلا گیا۔
میں نے ایک ہفتہ پھر انتظار کیا
 اور تیسرے شنبہ کو پھر میں اس کی تلاش میں نکلا، مگر وہ مجھے نہ ملا۔
میں نے لوگوں سے تحقیق کیا۔
ایک شخص نے بتایا کہ
وہ تین دن سے بیمار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 فلاں ویرانہ جنگل میں پڑا ہے۔
میں نے ایک شخص کو اجرت دے کر اس پر راضی کیا کہ وہ مجھے اس جنگل میں پہنچا دے۔ وہ مجھے ساتھ لے کر اس جنگل ویران میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بے ہوش پڑا ہے۔
 آدھی اینٹ کاٹکڑا سر کے نیچے رکھا ہوا ہے۔
میں نے اس کو سلام کیا، اس نے جواب نہ دیا۔
میں نے دوسری مرتبہ سلام کیا
 تو اس نے (آنکھ کھولی اور) مجھے پہچان لیا۔
میں نے جلدی سے اس کا سر اینٹ پر سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا۔
 اس نے سرہٹالیا اور چند شعر پڑھے
 جن میں سے دو یہ ہیں ؎
یَا صَاحِبِيْ لَا تَغْتَرِرْ بِتَنَعُّمٖ فَالْعُمْرُ یَنْفَدُ وَالنَّعِیْمُ یَزُوْلُ
وَإِذَا حَمَلْتَ إِلَی الْقُبُوْرِ جَنَازَۃً فَاعْلَمْ بِأَنَّکَ بَعْدَھَا مَحْمُول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔           میرے دوست
دنیا کی نعمتوں سے دھوکہ میں نہ پڑ۔
عمر ختم ہوتی جا رہی ہے اور یہ نعمتیں سب ختم ہو جائیں گی۔
 جب تو کو ئی جنازہ لے کر قبرستان میں جائے تو یہ سوچتا رہا کر کہ تیرا بھی ایک دن اسی طرح جنازہ اٹھایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ
ابو عامر،❗
 جب میری روح نکل جائے تو مجھے نہلا کر  مجھے میرے اسی کپڑے میں مجھے کفن دے دینا۔
میں نے کہا:
 میرے محبوب ❗اس میں کیا حرج ہے کہ
میں تیرے کفن کے لیے نئے کپڑے لے آ ؤں،❓
 اس نے جواب دیا کہ
 نئے کپڑوں کے زندہ لوگ زیادہ مستحق ہیں۔
 (یہ جواب حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جواب ہے۔ انھوں نے بھی اپنے وصال کے وقت یہی فرمائش کی تھی کہ
 میری انہی چادروں میں کفن دے دینا۔ اور جب ان سے نئے کپڑے کی اجازت چاہی گئی تو انھوں نے یہی جواب دیا تھا۔)
 لڑکے نے کہا کہ
 کفن تو (پرانا ہو یا نیا بہر حال) بوسیدہ ہو جائے گا۔
 آدمی کے ساتھ تو صرف اس کا عمل ہی رہتا ہے۔
اور یہ میری لنگی اور لوٹا قبر کھودنے والے کو مزدوری میں دے دینا،
 اور یہ انگوٹھی اور قرآن شریف ہارون رشید تک پہنچا دینا۔ اور اس کا خیال رکھنا کہ خود انہی کے ہاتھ میں دینا
 اور یہ کہہ کر دینا کہ ایک پردیسی لڑکے کی یہ میرے پاس امانت ہے اور وہ آپ سے یہ کہہ گیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسی غفلت اور دھوکہ کی حالت میں آپ کی موت آجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر اس کی روح قفص عنصری سے   پرواز کر گئی ۔۔۔
اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ لڑکا شہزادہ تھا۔
اس کے انتقال کے بعد اس کی وصیت کے مطابق  میں نے اس کو دفن کر دیا،
اور دونوں چیزیں گورکن کو دے دیں،
اور قرآن پاک اور انگوٹھی لے کر

۔۔۔۔۔۔۔ بغداد پہنچا، ،،،،،،،،

اور قصرِ شاہی کے قریب پہنچا تو بادشاہ کی سواری نکل رہی تھی۔
میں ایک اونچی جگہ کھڑا ہو گیا۔
اوّل ایک بہت بڑا لشکر نکلا جس میں تقریباً ایک ہزار گھوڑے سوار تھے۔
 اس کے بعد اسی طرح یکے بعد دیگرے دس لشکر نکلے۔
 ہر ایک میں تقریباً ایک ہزار سوار تھے۔
 دسویں جتھے میں خود امیر المؤمنین بھی تھے۔ میں نے زور سے آواز دے کر کہا کہ
 اے امیر المؤمنین❗
آپ کو حضورِاقدسﷺ کی قرابت رشتہ داری کا واسطہ ،
ذرا سا توقف کر لیجیے۔
میری آواز پر انھوں نے مجھے دیکھا تو میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر کہا کہ
میرے پاس ایک پردیسی لڑکے کی یہ امانت ہے جس نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ یہ دونوں چیزیں آپ تک پہنچادوں۔
بادشاہ نے ان کو دیکھ کر (پہچان لیا)
 تھوڑی دیر سر جھکایا۔
 ان کی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے اور ایک دربان سے کہا کہ اس آدمی کو اپنے ساتھ رکھو، جب میں واپسی پر بلاؤں تو میرے پاس پہنچا دینا۔
جب وہ باہر سے واپسی پر پہنچے تو محل کے پردے گروا کر دربان سے فرمایا:
 اس شخص کو بلا کر لاؤ،
اگرچہ وہ میرا غم تازہ ہی کرے گا۔
دربان میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ
امیر المؤمنین نے بلایا ہے اور اس کا خیال رکھنا کہ امیر پر صدمہ کا بہت اثر ہے۔ اگر تم دس باتیں کرنا چاہتے ہو تو پانچ ہی پر اِکتفا کرنا۔
 یہ کہہ کر وہ مجھے امیر کے پاس لے گیا۔ اس وقت امیر بالکل تنہا بیٹھے تھے۔
مجھ سے فرمایا کہ
میرے قریب آجاو۔
میں قریب جا کر بیٹھ گیا۔
کہنے لگے کہ تم میرے اس بیٹے کو جانتے ہو❓
میں نے کہا: جی ہاں میں ان کو جانتا ہوں۔
کہنے لگے:
 وہ کیا کام کرتا تھا❓
 میں نے کہا:
گارے مٹی کی مزدوری کرتے تھے۔
 کہنے لگے: تم نے بھی مزدوری پر کوئی کام اس سے کرایا ہے❓
 میں نے کہا: کرایا ہے۔
کہنے لگے: تمھیں اس کا خیال نہ آیا کہ
اس کی حضورِ اقدس ﷺ سے قرابت تھی (کہ یہ حضرات حضورﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ کی اولاد ہیں)❓
میں نے کہا:
امیر المؤمنین پہلے اللّٰہ سے معذرت چاہتا ہوں،
اس کے بعد آپ سے عذر خواہ ہوں، مجھے اس وقت اس کا علم ہی نہ تھا کہ یہ کون ہیں❓
 مجھے ان کے انتقال کے وقت ان کا حال معلوم ہوا۔ کہنے لگے کہ
 تم نے اپنے ہاتھ سے اس کو غسل دیا❓
میں نے کہا کہ جی ہاں۔
کہنے لگے: اپنا ہاتھ لاو۔
میرا ہاتھ لے کر اپنے سینہ پر رکھ دیا اور
چند شعر پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے:۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے وہ مسافر جس پر میرا دل پگھل رہا ہے اور میری آنکھیں اس پر آنسو بہا رہی ہیں❗
اے وہ شخص جس کا مکان (قبر) دور ہے، لیکن اس کا غم میرے قریب ہے❗
 بے شک موت ہر اچھے سے اچھے عیش کو مکدر کر دیتی ہے۔
 وہ مسافر ایک چاند کا ٹکڑا تھا
(یعنی اس کا چہرہ) جو خالص چاندی کی ٹہنی پر تھا( یعنی اس کے بدن پر)۔ پس چاند کا ٹکڑا بھی قبر میں پہنچ گیا اور چاندی کی ٹہنی بھی قبر میں پہنچ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ہارون رشید ؒنے بصرہ اس کی قبر پر جانے کا ارادہ کیا، ابو عامر ؒ ساتھ تھے۔ اس کی قبر پر پہنچ کر
 ہارون رشید نے چند شعر پڑھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔جن کا ترجمہ یہ ہے:
اے وہ مسافر جو اپنے سفر سے کبھی بھی نہ لوٹے گا❗
 موت نے کم عمری کے ہی زمانہ میں اس کو جلدی سے اُچک لیا۔
 اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ❗تو میرے لیے انس اور دل کا چین تھا، لمبی  راتوں میں بھی اور مختصر راتوں میں بھی۔
تُو نے موت کا وہ پیالہ پیا ہے جس کو عنقریب تیرا بوڑھا باپ بڑھاپے کی حالت میں پئیے گا۔
 بلکہ دنیا کا ہر آدمی اس کو پئیے گا، چاہے وہ جنگل کا رہنے والا ہو یا شہر کا رہنے والا ہو۔
 پس سب تعریفیں اسی وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ کے لیے ہیں جس کی لکھی ہوئی تقدیر کے یہ کرشمے ہیں۔

ابو عامر ؒکہتے ہیں کہ
 اس کے بعد جو رات آئی تو جب میں اپنے وظائف پورے کرکے لیٹا ہی تھا کہ
میں نے خواب میں۔۔۔۔۔۔۔۔
 ایک نور کا قبہ دیکھا جس کے اوپر اَبر کی طرح نور ہی نور پھیل رہا ہے۔
اس نور کے اَبر میں سے اس لڑکے نے مجھے آواز دے کر کہا:
 ابو عامر❗
تمھیں حق تعالیٰ شانہٗ جزائے خیر عطا فرمائے ( تم نے میری تجہیز و تکفین کی اور میری وصیت پوری کی)۔
 میں نے اس سے پوچھا کہ میرے پیارے❗ تیرا کیا حال گزرا❓
کہنے لگا کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
میں ایسے مولیٰ کی طرف پہنچا ہوں جو بہت کریم ہے اور مجھ سے بہت راضی ہے۔
مجھے اس مالک نے وہ چیزیں عطا کیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گزرا۔

(یہ ایک مشہور حدیثِ پاک کا مضمون ہے۔ حضورِاقدسﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ
 اللّٰہ کا پاک ارشاد ہے کہ
میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی کے دل پر ان کا خیال گزرا)
حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ
 تورات میں لکھا ہے کہ حق تعالیٰ شانہٗ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو رات کو خواب گاہوں سے دور رہتے ہیں (یعنی تہجد گذاروں کے لیے) وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کان نے سنا، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گذرا، نہ ان کو کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے، نہ کوئی نبی رسول جانتا ہے۔
 اور یہ مضمون قرآنِ پاک میں بھی ہے:
{ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ} (السجدہ)📖⁦❤⁩🌹
کسی شخص کو خبر نہیں جو جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ایسے لوگوں کے لیے خزانۂ غیب میں موجود ہے۔ (دُرِّمنثور)

اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 اس لڑکے نے کہا کہ
 حق تعالیٰ شانہٗ نے قسم کھا کر فرمایا ھے کہ جو بھی دنیا سے اس طرح نکل آئے جیسا میں نکل آیا،
 اس کے لیے یہی اِعزاز اور اِکرام ہیں جو میرے لیئے ہیں۔۔

Tuesday, 24 September 2019

آسمان سے بھینس گری اور جہاز تباہ

www.swatsmn.com
آسمان سے بھینس گری اور جہاز تباہ

یہ واقعہ 1956ء میں پیش آیا اس واقعہ میں ایک سبق پوشیدہ ہے۔
1956ء میں امریکا میں ایک بحری جہاز تیل لے کر جا رہا تھا‘
یہ جہاز اچانک اپنے روٹ سے ہٹ گیا۔
اور پھر اچانک بلند ہوتی لہروں یا کسی اور وجہ سے یہ جہاز اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا اور سمندر میں موجود ایک چٹان سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔
حادثے کے موقع پر جہاز کے کپتان نے لائف بوٹ کی مدد سے اپنی جان بچا ئی۔
لیکن حادثے کے بعد جہاز کے کپتان کو گرفتار کر لیا گیا کیونکہ تیل کے نقصان کے ساتھ ساتھ جہاز بھی تباہ ہوگیا تھا اور اس کا ذمہ دار جہاز کا کپتان تھا گرفتاری کے بعد اس سے حادثے کی وجہ پوچھی گئی۔
تو کپتان نے بتایا وہ جہاز کے ڈیک پر موجود تھا‘ آسمان بالکل صاف تھا۔ اچانک آسمان سے آبشار کی طرح ڈیک پر پانی گرا اور پانی کے ساتھ ہی آسمان سے ایک موٹی تازی بھینس نیچے گری۔ بھینس کے گرنے سے جہاز کا توازن بگڑ گیا اور یہ چٹان سے ٹکرا گیا۔
جس کی وجہ سے جہاز تباہ ہوکر ڈوب گیا۔
یہ ایک عجیب قسم کی سٹوری یا جواز تھا اور کوئی بھی نارمل شخص اس سٹوری پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ شائد آپ بھی اس پر یقین نہیں کریں گے کیونکہ اگر آسمان بالکل صاف ہو‘ آسمان صاف ہو‘ آسمان سے اچانک آبشار کی طرح پانی گرے اور ذرا دیر بعد ایک دھماکے کے ساتھ آسمان سے ایک بھینس نیچے گر جائے تو اس پر کون یقین کرے گا۔
کپتان کی بات پر بھی کسی نے یقین نہیں کیا تھا۔
آئل کمپنی نے اس کو جھوٹا قرار دے دیا۔ پولیس نے اسے مجرم ڈکلیئر کر دیا اور آخر میں نفسیات دانوں نے بھی اسے پاگل اور جھوٹا قراردے دیا۔
اور کپتان کو پاگل خانے میں داخل کروا دیا گیا۔ یہ وہاں پچیس سال تک قید رہا اور اس قید کے دوران اور پاگلوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے یہ حقیقتاً پاگل ہو گیا۔
یہ اس کہانی کے سکے کا ایک رخ تھا۔ اگر میں بھی آپ سے پوچھوں کہ کیا یہ کپتان سچ بول رہا تھا تو آپ میں سے بھی اکثر دوست کہیں گے یہ ممکن ہی نہیں کہ آسمان صاف ہو اور آسمان سے کوئی بھینس گرے۔اس پہلو کو پڑھنے والے اس کپتان کو پاگل یا جھوٹا ہی کہیں گے۔
اب آپ اس کہانی کے سکے کا دوسرا رخ ملاحظہ کیجئے اور اس رخ کو سننے کے بعد آخر میں آپ کو یہ کپتان دنیا کامظلوم ترین شخص دکھائی دے گا۔
اس واقعے کے پچیس سال بعد ائیر فورس کے ایک ریٹائرڈ افسر نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک کتاب لکھی‘ اس کتاب میں اس نے انکشاف کیا‘
1956ءمیں ایک پہاڑی جنگل میں آگ لگ گئی تھی اور اسے آگ بجھانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
اس نے ایک ہوائی جہاز کے ساتھ پانی کا ایک بہت بڑا ٹینک باندھا‘
وہ اس ٹینک کو سمندر میں ڈبو کر بھرتا‘ جنگل کے اوپر جاتا اور پانی آگ پرگرا دیتا اور ٹینک بھرنے کیلئے دوبارہ سمندر کی طرف رخ کرلیتا‘ وہ ایک بار پانی کا ٹینک لے کر جا رہا تھا کہ اسے اچانک ٹینک کے اندراچھل کود محسوس ہوئی‘
اسے محسوس ہوا ٹینک کے اندر کوئی زندہ چیز چلی گئی ہے اور اگراس نے ٹینک نیچے نہ گرایا تو اس چیز کی اچھل کود سے اس کا ہوائی جہاز گر جائے گا‘ اس نے فوراً پانی والا ٹینک بٹن دبا کر کھول دیا‘
ٹینک سے پانی آبشار کی مانند نیچے گرا اور اس کے ساتھ ہی موٹی تازی بھینس بھی نیچے کی طرف گر گئی‘
یہ پانی اور بھینس نیچے ایک بحری جہاز کے ڈیک پر جا گری۔
آپ اب کہانی کے اس پہلو کو پہلے اینگل سے جوڑ کر دیکھئے‘ آپ کو سارا منظر نامہ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔
دوستو! یاد رکھیے آپ جب تک دوسرے فریق کا موقف نہ سن لیں‘ اور اس کی اچھی طرح جانچ نہ کرلیں اس وقت تک آپ کسی شخص کی کہانی کو جھوٹا کہنے سے بچیں۔کیونکہ جب تک ملزم اور مدعی کا موقف سامنے نہیں آتا اس وقت تک صورتحال واضح نہیں ہوتی...!!!
"کاپیڈ"

Thursday, 19 September 2019

کائنات کی عمر کیسے ناپی گئی؟

www.swatsmn.com
سوال: ہم کیسے دعویٰ کرتے ہیں کہ کائنات 13.8 ارب سال پرانی ہے، کائنات کی عمر کیسے ناپی گئی؟
جواب: چلیے اس کا آغاز ہم ایک پہیلی سے کرتے ہیں فرض کیجیئے اگر آپ کے سامنے کوئی بچہ کھڑا ہو اور آپ سے اس کی عمر کے متعلق اندازہ لگانے کو کہا جائے تو آپ کیا کریں گے؟ یقیناً دوسرے بچوں سے اس کا موازنہ کرکے جواب دیں گے... لیکن کائنات کے معاملے میں ہم ایسا نہیں کرسکتے.. کیونکہ اب تک ہمیں اپنی کائنات کے علاوہ کوئی اور کائنات دکھائی ہی نہیں دی... لہٰذا کائنات کی عمر کھوجنا ایک ایسی پہیلی تھی جس نے ماہرین فلکیات کو ایک عرصے تک الجھائے رکھا... اس کے لیے کچھ طریقہ کار کا انتخاب کیا گیا... ایک طریقہ کار تو یہ تھا کہ کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار نوٹ کی جائے (جوکہ 70 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے) اور پھر وقت کو reverse کرکے نوٹ کیا جائے کہ کائنات کو واپس ایک نقطے میں بند ہونے کے لیے کتنا عرصہ لگے گا... اس طریقہ کار کے ذریعے ہمیں "9 ارب سال" جواب ملا لیکن یہاں دو مسائل آرہے تھے کہ ایک تو یہ کہ کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے، یعنی ماضی میں یقیناً کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کم رہی ہوگی، دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں اپنی کائنات کا سائز اب تک معلوم نہیں ہوسکا جس وجہ سے ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ 9 ارب سال والا جواب درست نہیں ہوسکتا... لہذا اس طریقہ کار کو ترک کردیا.. جس کے بعد سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کا رخ کائنات میں قدیم ترین ستارے اور کہکشائیں ڈھونڈنے کی جانب کردیا... ان تحقیقات کے ذریعے ہمیں اندازہ ہونا شروع ہوا کہ کائنات میں قدیم ترین ستارے/کہکشائیں 13 ارب سال پرانی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کائنات میں ستارے 13 ارب سال پہلے وجود میں آنا شروع ہوئے... لیکن یہ جواب حتمی نہیں تھا کیونکہ اس میں یہ احتمال بہرحال موجود تھا کہ زیادہ جدید ٹیلی سکوپس کی مدد سے ہوسکتا ہے کہ مزید پرانے ستارے ہم کھوج نکالیں... سن 2001ء میں ناسا نے WMAP نامی ایک خلائی مشن خلاء میں بھیجا جس نے کائنات کا نقشہ تیار کیا اور کائنات کے متعلق ایسے حیرت انگیز انکشافات کیے جنہوں نے سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈبو دیا، اسی مشن سے ملنے والے ڈیٹا کی مدد سے ہمیں اندازہ ہوا کہ ہماری کائنات 13.77 ارب سال پرانی ہے.... مگر 2013ء میں یورپین اسپیس ایجنسی کے Planck نامی خلائی جہاز نے بگ بینگ واقعے کے 4 لاکھ سال بعد پیدا ہونے والی روشنی کو حساس آلات کی مدد سے دیکھ کر ان کا نقشہ بنایا اور کائنات کا درجہ حرارت نوٹ کیا... ہمیں معلوم ہے کہ کائنات جس وقت معرض وجود میں آئی تو اس دوران اس کا درجہ حرارت کھربوں ڈگری سینٹی گریڈ تھا.... لیکن پھر بگ بینگ کے چار لاکھ سال بعد کائنات پھیل کر اس حد تک ٹھنڈی ہوگئی تھی کہ سب ایٹامک پارٹیکلز کو ملکر ہائیڈروجن کے بادل بنانے کا موقع ملا... بگ بینگ کے 4 لاکھ سال بعد ہائیڈروجن کے بادل بنے، کائنات شفاف ہوئی اور یوں کائنات میں روشنی کو پھیلنے کو موقع ملا، ہمیں تجربات کے ذریعے معلوم ہوچکا ہے کہ ہائیڈروجن کے ایٹم 3 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پہ stable نہیں رہتے، یعنی بگ بینگ کے چار لاکھ سال بعد ہماری کائنات کا درجہ حرارت 3 ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا تھا... پلانک خلائی جہاز نے کائنات میں پھیلی Cosmic Microwave Background Radiations کے ذریعے معلوم کیا کہ کائنات کا درجہ حرارت اس وقت منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ ہے.... ہم فزکس اور ریاضی کی مساواتوں کے ذریعے بآسانی معلوم کرسکتے ہیں کہ کائنات کو 3 ہزار ڈگری سینٹی سے منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے میں کتنا عرصہ لگا ہوگا... یہ 13.82 ارب سال بنتے ہیں... یہی وجہ ہے کہ ماہرین فلکیات اب کافی پراعتماد ہیں کہ ہم کائنات کی ٹھیک ٹھیک عمر معلوم کرچکے ہیں، اس میں اگر کہیں غلطی ہوگی بھی تو وہ 10 کروڑ سال تک کی ہوسکتی ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ کائنات 13.9 ارب سال کی ہو یا ہوسکتا ہے کہ کائنات 13.7 ارب سال کی ہو... اس کے علاوہ دیگر مشاہدات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جیسا کہ ہم جب ہبل ٹیلی سکوپ کے ذریعے 13 ارب نوری سال دور جھانکتے ہیں تو ہمیں نئی نئی کہکشائیں بنی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ 13 ارب سال قبل کائنات بالکل نئی تھی، اس کے علاوہ 13.8 ارب سال سے زیادہ پرانی اب تک ہمیں کوئی کہکشاں نہیں مل پائی لہذا دقیق مشاہداتی اور تجرباتی تحقیقات کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ کائنات 13.8 ارب سال پرانی ہے...
محمد شاہ زیب صدیقی
زیب نامہ
کائنات کی عمر کے متعلق مختصر اردو ڈاکومنٹری دیکھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پہ کلک کیجئے:
https://youtu.be/toiRpZubVY8
#زیب_نامہ
#کائنات #ناسا #

Tuesday, 3 September 2019

جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی

www.swatsmn.com
ابو جان ایک قصہ سنایا کرتے تھے کہ
کسی قبرستان میں ایک شخص نے رات کے وقت نعش کیساتھ زنا کیا۔
بادشاہ وقت ایک نیک صفت شخص تھا اسکے خواب میں ایک سفید پوش آدمی آیا اور اسے کہا کہ فلاں مقام پر فلاں شخص اس گناہ کا مرتکب ہوا ہے، اور اسے حکم دیا کہ اس زانی کو فوراً بادشاہی دربار میں لا کر اسے مشیر خاص کے عہدے پر مقرر کیا جائے۔ بادشاہ نے وجہ جاننی چاہی تو فوراً خواب ٹوٹ گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
بہر حال
سپاہی روانہ ہوئے اور جائے وقوعہ ہر پہنچے، وہ شخص وہیں موجود تھا۔۔
سپاہیوں کو دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسکی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔۔
اسے بادشاہ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے اسے اسکا گناہ سنایا اور کہا ۔
آج سے تم میرے مشیر خاص ہو،
دوسری رات بادشاہ کو پھر خواب آیا۔
تو بادشاہ نے فوراً اس سفید پوش سے اس کی وجہ پوچھی کہ ایک زانی کیساتھ ایسا کیوں کرنے کا کہا آپ نے؟؟
سفید پوش نے کہا
اللّٰہ کو اسکا گناہ سخت نا پسند آیا، چونکہ اسکی موت کا وقت نہیں آیا تھا اسی لیے تم سے کہا گیا کہ اسے مشیر بنا لو، تاکہ وہ عیش میں پڑ جائے اور کبھی اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی نا مانگ سکے۔ کیوں کہ اسکی سزا آخرت میں طے کر دی گئی ہے۔ مرتے دم تک وہ عیش میں غرق رہے گا، اور بلکہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر اسے سزا دی جانے چاہیے تھی اس گناہ پر اسے اعلیٰ عہدہ مل گیا۔۔
سو اسے گمراہی میں رکھنا مقصد تھا۔۔
ابو اٹھے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا۔۔
جب گناہوں ہر آسانی ملنے لگے تو سمجھ لینا آخرت خراب ہو گئی۔ اور توبہ کے دروازے بند کر دیے گئے تم پر۔۔
میں سن کر حیران رہ گیا۔۔ اپنے گریباں میں اور آس پاس نگاہ دوڑائی۔
کیا آج ایسا نہیں ہے؟؟
بار بار گناہوں کا موقع ملتا ہے ہمیں اور کتنی آسانی سے ملتا ہے اور کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہماری۔ ہم خوش ہیں۔ عیش میں ہیں۔۔ کتنے ہی مرد و خواتین کتنی ہی بار گھٹیا فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور مرد اسے اپنی جیت اور عورت اپنی جیت کا نام دیتی ہے۔
اور اگلی بار ایک نیا شکار ہوتا ہے۔۔
پہلی بار گناہ پر دل زور زور سے دھڑکے گا آپکا، دماغ غیر شعوری سگنل دے گا۔ ایک ٹیس اٹھے گی ذہن میں۔ جسم لاغر ہونے لگے گا ، کانپنے لگے گا
یہ وہ وقت ہوگا جب ایمان جھنجھوڑ رہا ہوتا ہے، چلا رہا ہوتا ہے کہ دور ہٹو، باز رہو۔
مگر دوسری بار یہ شدت کم ہو جائے گی۔ اور پھر ختم۔
پھر انسان مست رہتا ہے اور خوش بھی، مگر افسوس کہ اوپر والا اس سے اپنا تعلق قطع کر لیتا ہے۔۔
گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا اور آسان بھی، مگر یاد رکھیے سچ کا راستہ دشوار ہوتا ہے اس میں بے شمار تکلیفیں ہونگی، آزمائشیں، مصیبتیں سب ہونگی مگر گناہ کا راستہ ہمیشہ ہموار ہوگا۔۔
کسی زمین میں گندم خود بخود نہیں اگ آتی، آگائی جاتی ہے۔ محنت کی جاتی ہے، خیال کیا جاتا ہے، حفاظت کی جاتی ہے تب جا کے پھل ملتا ہے مگر کسی زمین میں جھاڑیاں، غیر ضروری گھاس پھوس ، کانٹے دار پودے خود ہی اگتے ہیں۔ ان پہ کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی، وہ خود ہی اگتی ہیں اور کچھ ہی دنوں میں پوری زمین کو لپیٹ میں لیکر اسے ناکارہ بنا دیتی ہے۔۔
اسی طرح بالکل آپکے دل کی زمین ہے جہاں گناہوں کا تصور از خود پیدا ہوگا اور بڑھے گا۔ مگر نیکیوں کے لیے گناہوں سے بچنے کے لیے محنت کرنی پڑے گی، دشواریوں سے گذرنا ہوگا۔۔
خدارا اس لعنت سے بچیں۔ اس میں ملوث ہونا کوئی کمال نہیں،
بچنا کمال ہے۔۔ باز رہنا کمال ہے۔ سوچیے، نکلیے اس گناہ سے، کیوں حیا کا اٹھ جانا ایمان اٹھ جانے کی نشانی ہے۔ نشانی ہے اس بات کی کہ اندھیری قبر میں بہت برا ہونے والا ہے۔
خدا ہم سب کو ہدایت دے۔۔ آمین

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...