Tuesday, 18 June 2019

"سر ! 3 مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"

www.swatsmn.com
"سر ! 3 مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
3 مئی 1995 کا دِن جب امریکی بحریہ اور فضائیہ کے غرور کوپاکستان ائیر فورس کے دو شاہینوں نے خاک میں مِلا دیا۔ پاکستان ائیر فورس کا ایک انوکھا کارنامہ جس نے دُنیا کو حیرت زدہ کردیا۔
1995میں سپائڈرالرٹ کے نام سے پاکستان اور امریکہ کی مُشترقہ جنگی مشقیں شُروع ہوئیں جس میں دونوں ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج نے حصّہ لیا۔
جنگی مشقوں کے آخری مراحل میں فِضا سے سمندر میں حملے کا مقابلے کا انعقاد کیا گیا جِس میں پاکستان ائیرفورس کو ٹارگٹ دیا گیا کہ اُنہیں سمندر میں موجود بحری بیڑے اِبراہم لنکن (CN-72) کےانتہائی قریب جا کر اُس پر حملہ کرکے مصنوعی طور پر کے تباہ کرنا ہے اور دُوسری طرف امریکی بحری بیڑے پر موجود امریکی بحریہ کو یہ ہدف دیا گیا کہ اُنہیں ہوا میں موجود پاکستانی ہوابازوں کا بحری بیڑے کے قریب پہنچنے سے قبل سُراغ لگانا ہے تاکہ بیڑے پر موجود امریکی F-14جنگی تیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی طیاروں کو ہوا میں ہی دبوچ لیں اور بحری بیڑے کے قریب آنے سے پہلے ہی ہوا میں مصنوعی طور پر گِرا کر یہ مِشن اپنے نام کرلیں۔
اس مشق میں امریکی بحری اور فضائی افسران انتہا کی حد تک مطمئن اور پُر اعتماد تھے۔ اُن کے اعتماد کی وجہ امریکی بحری بیڑے پر موجوددُنیاکاسب سے بہترین ریڈارسسٹم تھا جو میلوں دور سے کسی بھی قسم کی فضائی نقل وحرکت کی بالکل درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ امریکیوں کے اعتماد کی دُوسری اور اہم وجہ یہ تھی کہ بحری بیڑے پر موجود امریکی طیارے جدید ترین طیارے تھے جو برق رفتاری میں پاکستانی معراج طیاروں سے کہیں آگے تھے۔
دُوسری طرف پاکستان کے ایک فضائی اڈے کا منظر! جہاں پر پاکستان کے فضائی نگرانوں کو اس مُشکل ترین مشن پر جانے کےلئے پوچھا گیا اور حسبِ معمول تمام پائلٹس ایک عزم اور ولوّلے کے ساتھ اس مشن پر جانے کے لئے اگےآئے لیکن اس مِشن پر صرف دو پائلٹ مُنتخب ہونے تھے جنہوں نے اپنے معراج طیاروں کے ساتھ اس مُشکل ترین مشن پر جانا تھا۔
سینئر کمانڈ کے فیصلے کے مطابق اس مشن کےلئے وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اور فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کا انتخاب کیا گیا۔ وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اُن دِنوں پاکستان فضائیہ میں سکوارڈن نمبر آٹھ کے بطورکمانڈرفرائض سرانجام دے رہے تھے۔
دِن تین بجے کے وقت دونوں پاکستانی شاہین مشن پر روانہ ہونے سے قبل اپنے طیاروں کی جانچ پڑتال میں مشغول تھے جب وِنگ کمانڈر عاصم سلمان نے فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اپنے پاس بُلایا اور کہا۔ احمد میں اُمید کرتا ہوں آپ اس مشن کےلئے مُکمل طورپر تیارہو۔ لیفٹیننٹ احمد حسن کےچہرےپر ایک پُراعتماد اور جوش سے بھرپور مُسکراہٹ آئی اور وہ انتہائی ادب لیکن اعتماد سے بولے "سرآج تین مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
وِنگ کمانڈر کو اپنےنوجوان شاہین کی بات پر مُکمل اعتماد تھا کیونکہ آج اُنہوں نے اپنی زندگی کا ایک انتہائی انوکھا فیصلہ کیا جو آج تک کی فضائی تاریخ میں نہیں ہوا تھا لیکن ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے اپنے اس فیصلے سے احمد حسن کو آگاہ نہیں کیا اور فیصلہ کیا کہ ہدایات مشن پر روانہ ہونے کے بعدطیارے کے وائرلیس سےدیں گے۔
چند لمحوں بعد دونوں شاہین اپنے اپنے معراج طیاروں کے کاک پٹ میں موجود تھے۔ پھر اُن کے طیاروں نے نعرہ تکبیر کی صداؤں کی گونج میں ہوا میں اُڑان بھری اور ایک مُشکل ترین فضائی مشن پر روانہ ہوگئے۔
اِس مشن میں ونگ کمانڈر عاصم سلمان لیڈر جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ احمدحسن ونگ مین کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
امریکی بحری بیڑے پر موجود تمام بحری اور فضائی افسران انتہائی اطیمنان سے پاکستانی طیاروں کی ریڈار پر نشاندہی کا انتظار کررہے تھے کہ جیسے ہی پاکستانی طیاروں کی نشاندہی ہو اُن کے جدید ترین ایف چودہ طیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی معراج طیاروں کو بحری بیڑے سے میلوں دُور دبوچ لیں اور امریکی اپنی فتح کا جشن منائیں۔
تمام امریکی افسران ریڈرا روم میں موجود تھے اور امریکی پائلٹ اپنے طیاروں میں موجود اگلے حُکم کے مُنتظر تھے۔
دونوں پاکستانی شاہین اپنے اپنے طیاروں کو ہدف کی طرف لے جا رہے تھے جب اچانک فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو طیارے کے وائرلیس پر اپنے لیڈر کا ایک انوکھا اور پُر خطر حُکم سُنائی دیا اور پھربیک وقت دونوں طیارے بجلی کی رفتار سےنیچے کی طرف جانا شُروع ہوگئے۔
امریکی بحری بیڑے پر اُس وقت سناٹا چھا گیا جب پاکستان کے دونوں شاہینوں نےامریکیوں کو حرکت کا موقع دئیے بغیرامریکی بحری بیڑے کی بالائی سطح کے بھی نیچےسے سمندر سے محض چند فُٹ اوپر سے اپنے معراج طیارے برق رفتاری سے فضاء میں بُلند کئے اور امریکی بحری بیڑے کو کامیابی سے مصنوعی طور ہراپنے ہدف کا نشانہ بناکر پاکستان کی امریکیوں پر فتح کا پیغام کنٹرول روم کو دیا۔
پاکستانی ہوائی اڈہ ایک بار پھر نعرہ تکبیر کی صداؤں سے گونج اُٹھا جبکہ دُوسری جانب امریکی بحری بیڑے پر ایک سناٹا چھا چُکا تھا اور امریکی ایک صدمے کی کیفیت میں ایک دوسرے کا مُنہ دیکھ رہے تھے۔ امریکی سوچ رہے تھے کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہوا کہ پاکستانی معراج طیارے جدید ترین ریڈار پر نظرآئے بغیر کامیابی سے بحری بیڑے کے اُوپر سے گُزر گئے اور اُنہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دِیا۔
ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے ہوائی اڈے سے اُڑان بھرنے سےقبل ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ امریکی ریڈار سے بچنےکےلئے اُنہیں دونوں طیاروں کو انتہائی نِچلی اور خطرناک سطح پر تیزرفتاری سے پرواز کرنا پڑے گی چُنانچہ اُنہوں نے اُڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد ہی فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اچانک یہ حُکم دیا۔ قارئینِ کرام اتنی نچلی سطح پر یہ پرواز معراج طیاروں کے ساتھ نامُمکن تھی اوردُنیا میں آج تک کسی پائلٹ نے جدیدترین طیارےپربھی ایسی خطرناک پرواز نہیں کی تھی۔ سطح سمندر پر یہ پرواز اور بھی مُشکل تھی کیونکہ زمین اور پانی پر ہوا کا دباؤ مُختلف ہوتا ہے لیکن آفرین کہ پاکستان کے بہادر اور نڈرسپوتوں نے ایسے نامُمکن کو ایک جذبے سے مُمکن کر دِکھایا اور امریکیوں کے غرور کوخاک میں مِلا کر فضائی معرکوں میں ایک تاریخ رقم کر دی اور اپنےسبزہِلالی پرچم کی لاج رکھ کر اقبال (رح) کے اس قول کی کو سچ کر دِکھایا "مومن ہو تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سِپاہی"
ہمارا سلام ہو وطن کے تمام بہادر سپوتوں پر۔
افواجِ پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد۔

Sunday, 14 April 2019

کہاں سے لاوں طاقت دین کا سچی ترجمانی کی کہ کسی جانجال میں گزری ہے گڑیاں زندہ گانی کی

www.swatsmn.com
کہاں سے لاوں طاقت دین کا سچی ترجمانی کی
 کہ کسی جانجال میں گزری ہے گڑیاں زندہ گانی کی 

Wednesday, 30 January 2019

Tuesday, 15 January 2019

انسان اور انسانیت

www.swatsmn.com
 انسان اور انسانیت
تاریخی حقائق کے مطابق جب مشہور برطانوی بحری جہاز ٹائی ٹینک حادثے کا شکار ہوا تو اس کے آس پاس تین ایسے بحری جہاز موجود تھے جو ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچا سکتے تھے۔۔
سب سے قریب جو جہاز موجود تھا اسکا نام سیمسن (Samson) تھا اور وہ حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے صرف سات میل کی دوری پہ تھا۔ سیمسن کے عملے نے نہ صرف ٹائی ٹینک کے عملے کی طرف سے فائر کئے گئے سفید شعلے (جو کہ انتہائی خطرے کی صورت میں فضا میں فائر کئے جاتے ہیں) دیکھے تھے بلکہ مسافروں کی آہ و بُکا کو سُنا بھی تھا۔ لیکن کیونکہ سیمسن کے عملے کے لوگ غیر قانونی طور پہ انتہائی قیمتی سمندری حیات کا شکار کر رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پکڑے جائیں لہذا ٹائی ٹینک کی صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی بجائے مدد کرنے کے وہ جہاز کو ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں بہت دور لے گئے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی گناہوں بھری زندگی میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر سے انسانیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ساری زندگی اپنے گناہوں کو چھپاتے گزار دیتے ہیں۔
دوسرا جہاز جو قریب موجود تھا اس کا نام کیلیفورنین (Californian) تھا جو حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے چودہ میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے بھی ٹائی ٹینک کی طرف سے مدد کی پکار کو سنا اور باہر نکل کے سفید شعلے اپنی آنکھوں سے دیکھے لیکن کیونکہ وہ اس وقت برف کی چٹانوں میں گھرا ہوا تھا اور اسے ان چٹانوں کے گرد چکر کاٹ کے ٹائی ٹینک تک پہنچنے میں خاصی مشکل صورتحال سے دو چار ہونا پڑتا لہذا کیپٹن نے اس کی بجائے دوبارہ اپنے بستر میں جانا اور صبح روشنی ہونے کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ صبح جب وہ ٹائی ٹینک کی لوکیشن پہ پہنچا تو ٹائی ٹینک کو سمندر کی تہہ میں پہنچے چار گھنٹے گزر چکے تھے اور ٹائی ٹینک کے کیپٹن ایڈورڈ اسمتھ سمیت 1569 افراد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو کسی کی مدد کرنے کو اپنی آسانی سے مشروط کر دیتے ہیں اور جب تک حالات حق میں نہ ہوں کسی کی مدد کرنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔
تیسرا جہاز کارپیتھیا (Carpathia) تھا جو ٹائی ٹینک سے 68 میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے ریڈیو پہ ٹائی ٹینک کے مسافروں کی چیخ و پکار سنی۔ صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی باوجود اس کے کہ یہ ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں جنوب کی طرف جا رہا تھا، اس نے فورا اپنے جہاز کا رخ موڑا اور اللہ کا نام لے کے برف کی چٹانوں اور خطرناک موسم کی پروا کئے بغیر مدد کے لئے روانہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ دور ہونے کے باعث ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے دو گھنٹے بعد لوکیشن پہ پہنچ سکا لیکن یہی وہ جہاز تھا جس نے لائف بوٹس پہ امداد کے منتظر ٹائی ٹینک کے باقی ماندہ 710 مسافروں کو زندہ بچایا تھا اور انہیں بحفاظت نیو یارک پہنچا دیا تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن کیپٹن آرتھر روسٹرن کو برطانوی نیوی کی تاریخ کے چند بہادر ترین کیپٹنز میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے اس عمل پہ انہیں کئی سماجی اور حکومتی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔
یاد رکھیئے، ہماری زندگی میں ہمیشہ مشکلات رہتی ہیں، چیلنجز رہتے ہیں، لیکن وہ جو ان مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے بھی انسانیت کی بھلائی کے لئے کچھ کر جائیں انہیں ہی انسان اور انسانیت یاد رکھتی ہے۔
دعا کیا کریں کہ خدا کسی کی مدد کی توفیق دے کیوں کہ یہ انسانیت کی معراج اور اعلی ترین درجہ ہے۔

Wednesday, 28 March 2018

میرا جسم میری مرضی

www.swatsmn.com

میرا جسم میری مرضی


اسکرین پر میری نگاہ پڑی تو میں لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔

پلے کارڈ پر لکھے الفاظ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ الفاظ نہیں تھے دہکتے انگارے تھے ۔۔۔۔
کیا ہے یہ؟ میں نےاپنی بیٹی سے پلے کارڈز کے بارے میں پوچھا ۔ 
مما ! یہاں ہم سب احتجاج کررہے ہیں آج کی عورت مضبوط ہے وہ کسی کی غلام نہیں ہے میری بیٹی نے موم بتی والی آنٹی سے سنی ہوئی ساری تقریر مجھے سُنا ڈالی ۔۔۔
میں نے تحمل سے اپنی بیٹی کا ہاتھ تھاما اور اسے اس مجمع سے نکال کر لے آئی جو سوشل میڈیا پر جمع تھا۔
میری شہزادی ! اللہ تعالیٰ تمہیں ہر بری آفت سے بچائے شاید تمہیں نہیں معلوم یہ پلے کارڈ کوئی پلے کارڈ نہیں ہے یہ تمہاری اذیتوں کا دیباچہ ہے
اذیتوں کا دیباچہ ؟میری بیٹی نے حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے پوچھا 
ہاں اذیتوں کا دیباچہ ۔۔۔۔
لیکن کیسے ؟ میری بھولی بھالی بیٹی کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں۔۔۔۔
میری لختِ جگر ! تمہیں لگتا ہے یہ تمہاری آزادی چاہتے ہیں نہیں میری شہزادی ! یہ تمہاری آزادی نہیں چاہتے یہ بس تم تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں پر یہ کبھی تمہیں فنکارہ کے روپ میں استیصال کریں گے ۔۔۔کبھی اینکر کے شکل میں۔۔۔۔کبھی سیلز گرل کی صورت میں کیونکہ عورت سے زیادہ سستا مزدور نہیں ملتا ۔۔۔ 
ا ن کی نجی نشستوں میں عورتوں سے متعلق گفتگو سُن لینا تمہیں اندازہ ہو جائے گا یہ عورتوں کو ایک منڈی کےمال سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔۔۔۔تم جیسی بھولی بھالی لڑکیاں آزادی کا نعرہ لگاتے لگاتے ان کی بد ترین رکھیل بنتی چلی جاتی ہے غلامی کی ایسی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو تا ۔
لیکن مما ! یہ تو بہت مخلص نظر آتے ہیں ۔میری بیٹی نے ایک دلیل دی 
بیٹا ! جب شکاری تیتر کے شکار کے لیے جنگل میں جاتا ہے تو وہ تیتر کی آواز نکالتا ہے تیتر سمجھتاہے اس کا کوئی ساتھی ہو گا اور وہ اس کے جال میں پھنس جاتا ہے ۔۔۔۔بالکل ایسے ہی عورتوں کے یہ شکاری بھی ایسی ہی آوازیں نکالتے ہیں جو خواتین کو پر کشش معلوم ہوں ۔۔۔ 
بیٹا !
ایک ٹیچر کی مرضی کے بغیر اگر کوئی شخص علم حاصل کرنا چاہے تو وہ ناکام ہو جائے گا 
طبیب کی مرضی کے بغیر علاج کیا تو مر جائے گا ۔۔۔۔وکیل کی مرضی کے بغیر مقدمہ لڑا ہار جائے گا ۔۔۔۔ کھیل کے میدان میں اپنی مرضی چلائی ناکام ہو جائے گا ۔۔۔۔
اب خود سوچو !!!!!!جو انسان اپنے خالق کی مرضی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی چلائے کامیاب ہو گا ؟
بیٹا! بازارِ حسن میں موجود عورت ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کے تحت کس طرح ذلیل و رسوا ہو رہی ہیں وہ نہیں چاہتیں اس گندگی میں گرفتار رہنا ۔پوچھو بیٹا! کبھی اس عورت سے؛ وہ چاہتی ہے اپنے شوہر کو کھانا گرم کر کے دے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک اچھی اور پاکیزہ زندگی گزارے ۔۔۔۔۔
یہ روشن خیال مفکر ۔۔۔۔یہ عورتوں کی آزادی کے نقیب ۔۔۔۔۔یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے ہیں یہ بازارِ حسن کے یہ نئے دلال ہیں ۔
اسلام نے عورت کو عزت دی یہ بھیڑئیے اب آزادی اور فیمینزم کے نام پر عورت کو نکال رہے ہیں ۔۔۔۔پوچھنا کبھی ان عورتوں سے جو گلیمر کی چکا چوند میں اپنا آپ کھو بیٹھی ہیں کیا خوش ہیں اس آزادی سے ؟
نہیں بالکل نہیں میرا بچہ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔
میری شہزادی اگر تم نے اللہ و رسول ﷺ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری تو تم کامیاب رہو گی ۔
میرے محترم!میں آپ سے مخاطب ہوں 
ذرا غور کیجیے گا اس مجمع میں آپ کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے جو سوشیل میڈیا پر ان تصاویر کو لائیک کررہی ہو ۔۔۔۔ان تصاویر کو شئیر کر رہی ہو ۔۔۔۔یا ان سے متاثر ہو۔۔۔ہماری بچیاں اس مجمع کا حصۃ بنا رہی ہیں لا شعوری طور پر ۔۔۔۔آؤ ہم اپنے گھروں کی بنیادیں مضبوط کر لیں-

ایک غیرتمند مسلمان، ماں ،کی قوم کی بچیوں کےنام " پیغام

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...