Wednesday, 30 January 2019

Tuesday, 15 January 2019

انسان اور انسانیت

www.swatsmn.com
 انسان اور انسانیت
تاریخی حقائق کے مطابق جب مشہور برطانوی بحری جہاز ٹائی ٹینک حادثے کا شکار ہوا تو اس کے آس پاس تین ایسے بحری جہاز موجود تھے جو ٹائی ٹینک کے مسافروں کو بچا سکتے تھے۔۔
سب سے قریب جو جہاز موجود تھا اسکا نام سیمسن (Samson) تھا اور وہ حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے صرف سات میل کی دوری پہ تھا۔ سیمسن کے عملے نے نہ صرف ٹائی ٹینک کے عملے کی طرف سے فائر کئے گئے سفید شعلے (جو کہ انتہائی خطرے کی صورت میں فضا میں فائر کئے جاتے ہیں) دیکھے تھے بلکہ مسافروں کی آہ و بُکا کو سُنا بھی تھا۔ لیکن کیونکہ سیمسن کے عملے کے لوگ غیر قانونی طور پہ انتہائی قیمتی سمندری حیات کا شکار کر رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ پکڑے جائیں لہذا ٹائی ٹینک کی صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی بجائے مدد کرنے کے وہ جہاز کو ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں بہت دور لے گئے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی گناہوں بھری زندگی میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر سے انسانیت کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور پھر وہ ساری زندگی اپنے گناہوں کو چھپاتے گزار دیتے ہیں۔
دوسرا جہاز جو قریب موجود تھا اس کا نام کیلیفورنین (Californian) تھا جو حادثے کے وقت ٹائی ٹینک سے چودہ میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے بھی ٹائی ٹینک کی طرف سے مدد کی پکار کو سنا اور باہر نکل کے سفید شعلے اپنی آنکھوں سے دیکھے لیکن کیونکہ وہ اس وقت برف کی چٹانوں میں گھرا ہوا تھا اور اسے ان چٹانوں کے گرد چکر کاٹ کے ٹائی ٹینک تک پہنچنے میں خاصی مشکل صورتحال سے دو چار ہونا پڑتا لہذا کیپٹن نے اس کی بجائے دوبارہ اپنے بستر میں جانا اور صبح روشنی ہونے کا انتظار کرنا مناسب سمجھا۔ صبح جب وہ ٹائی ٹینک کی لوکیشن پہ پہنچا تو ٹائی ٹینک کو سمندر کی تہہ میں پہنچے چار گھنٹے گزر چکے تھے اور ٹائی ٹینک کے کیپٹن ایڈورڈ اسمتھ سمیت 1569 افراد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے۔
یہ جہاز ہم میں سے ان افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو کسی کی مدد کرنے کو اپنی آسانی سے مشروط کر دیتے ہیں اور جب تک حالات حق میں نہ ہوں کسی کی مدد کرنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔
تیسرا جہاز کارپیتھیا (Carpathia) تھا جو ٹائی ٹینک سے 68 میل دور تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن نے ریڈیو پہ ٹائی ٹینک کے مسافروں کی چیخ و پکار سنی۔ صورتحال کا اندازہ ہوتے ہی باوجود اس کے کہ یہ ٹائی ٹینک کی مخالف سمت میں جنوب کی طرف جا رہا تھا، اس نے فورا اپنے جہاز کا رخ موڑا اور اللہ کا نام لے کے برف کی چٹانوں اور خطرناک موسم کی پروا کئے بغیر مدد کے لئے روانہ ہو گیا۔ اگرچہ یہ دور ہونے کے باعث ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کے دو گھنٹے بعد لوکیشن پہ پہنچ سکا لیکن یہی وہ جہاز تھا جس نے لائف بوٹس پہ امداد کے منتظر ٹائی ٹینک کے باقی ماندہ 710 مسافروں کو زندہ بچایا تھا اور انہیں بحفاظت نیو یارک پہنچا دیا تھا۔ اس جہاز کے کیپٹن کیپٹن آرتھر روسٹرن کو برطانوی نیوی کی تاریخ کے چند بہادر ترین کیپٹنز میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے اس عمل پہ انہیں کئی سماجی اور حکومتی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔
یاد رکھیئے، ہماری زندگی میں ہمیشہ مشکلات رہتی ہیں، چیلنجز رہتے ہیں، لیکن وہ جو ان مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے بھی انسانیت کی بھلائی کے لئے کچھ کر جائیں انہیں ہی انسان اور انسانیت یاد رکھتی ہے۔
دعا کیا کریں کہ خدا کسی کی مدد کی توفیق دے کیوں کہ یہ انسانیت کی معراج اور اعلی ترین درجہ ہے۔

Wednesday, 28 March 2018

میرا جسم میری مرضی

www.swatsmn.com

میرا جسم میری مرضی


اسکرین پر میری نگاہ پڑی تو میں لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔

پلے کارڈ پر لکھے الفاظ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ الفاظ نہیں تھے دہکتے انگارے تھے ۔۔۔۔
کیا ہے یہ؟ میں نےاپنی بیٹی سے پلے کارڈز کے بارے میں پوچھا ۔ 
مما ! یہاں ہم سب احتجاج کررہے ہیں آج کی عورت مضبوط ہے وہ کسی کی غلام نہیں ہے میری بیٹی نے موم بتی والی آنٹی سے سنی ہوئی ساری تقریر مجھے سُنا ڈالی ۔۔۔
میں نے تحمل سے اپنی بیٹی کا ہاتھ تھاما اور اسے اس مجمع سے نکال کر لے آئی جو سوشل میڈیا پر جمع تھا۔
میری شہزادی ! اللہ تعالیٰ تمہیں ہر بری آفت سے بچائے شاید تمہیں نہیں معلوم یہ پلے کارڈ کوئی پلے کارڈ نہیں ہے یہ تمہاری اذیتوں کا دیباچہ ہے
اذیتوں کا دیباچہ ؟میری بیٹی نے حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے پوچھا 
ہاں اذیتوں کا دیباچہ ۔۔۔۔
لیکن کیسے ؟ میری بھولی بھالی بیٹی کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکی تھیں۔۔۔۔
میری لختِ جگر ! تمہیں لگتا ہے یہ تمہاری آزادی چاہتے ہیں نہیں میری شہزادی ! یہ تمہاری آزادی نہیں چاہتے یہ بس تم تک پہنچنے کی آزادی چاہتے ہیں پر یہ کبھی تمہیں فنکارہ کے روپ میں استیصال کریں گے ۔۔۔کبھی اینکر کے شکل میں۔۔۔۔کبھی سیلز گرل کی صورت میں کیونکہ عورت سے زیادہ سستا مزدور نہیں ملتا ۔۔۔ 
ا ن کی نجی نشستوں میں عورتوں سے متعلق گفتگو سُن لینا تمہیں اندازہ ہو جائے گا یہ عورتوں کو ایک منڈی کےمال سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔۔۔۔تم جیسی بھولی بھالی لڑکیاں آزادی کا نعرہ لگاتے لگاتے ان کی بد ترین رکھیل بنتی چلی جاتی ہے غلامی کی ایسی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہو تا ۔
لیکن مما ! یہ تو بہت مخلص نظر آتے ہیں ۔میری بیٹی نے ایک دلیل دی 
بیٹا ! جب شکاری تیتر کے شکار کے لیے جنگل میں جاتا ہے تو وہ تیتر کی آواز نکالتا ہے تیتر سمجھتاہے اس کا کوئی ساتھی ہو گا اور وہ اس کے جال میں پھنس جاتا ہے ۔۔۔۔بالکل ایسے ہی عورتوں کے یہ شکاری بھی ایسی ہی آوازیں نکالتے ہیں جو خواتین کو پر کشش معلوم ہوں ۔۔۔ 
بیٹا !
ایک ٹیچر کی مرضی کے بغیر اگر کوئی شخص علم حاصل کرنا چاہے تو وہ ناکام ہو جائے گا 
طبیب کی مرضی کے بغیر علاج کیا تو مر جائے گا ۔۔۔۔وکیل کی مرضی کے بغیر مقدمہ لڑا ہار جائے گا ۔۔۔۔ کھیل کے میدان میں اپنی مرضی چلائی ناکام ہو جائے گا ۔۔۔۔
اب خود سوچو !!!!!!جو انسان اپنے خالق کی مرضی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی چلائے کامیاب ہو گا ؟
بیٹا! بازارِ حسن میں موجود عورت ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کے تحت کس طرح ذلیل و رسوا ہو رہی ہیں وہ نہیں چاہتیں اس گندگی میں گرفتار رہنا ۔پوچھو بیٹا! کبھی اس عورت سے؛ وہ چاہتی ہے اپنے شوہر کو کھانا گرم کر کے دے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک اچھی اور پاکیزہ زندگی گزارے ۔۔۔۔۔
یہ روشن خیال مفکر ۔۔۔۔یہ عورتوں کی آزادی کے نقیب ۔۔۔۔۔یہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے ہیں یہ بازارِ حسن کے یہ نئے دلال ہیں ۔
اسلام نے عورت کو عزت دی یہ بھیڑئیے اب آزادی اور فیمینزم کے نام پر عورت کو نکال رہے ہیں ۔۔۔۔پوچھنا کبھی ان عورتوں سے جو گلیمر کی چکا چوند میں اپنا آپ کھو بیٹھی ہیں کیا خوش ہیں اس آزادی سے ؟
نہیں بالکل نہیں میرا بچہ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔
میری شہزادی اگر تم نے اللہ و رسول ﷺ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری تو تم کامیاب رہو گی ۔
میرے محترم!میں آپ سے مخاطب ہوں 
ذرا غور کیجیے گا اس مجمع میں آپ کی بیٹی بھی ہو سکتی ہے جو سوشیل میڈیا پر ان تصاویر کو لائیک کررہی ہو ۔۔۔۔ان تصاویر کو شئیر کر رہی ہو ۔۔۔۔یا ان سے متاثر ہو۔۔۔ہماری بچیاں اس مجمع کا حصۃ بنا رہی ہیں لا شعوری طور پر ۔۔۔۔آؤ ہم اپنے گھروں کی بنیادیں مضبوط کر لیں-

ایک غیرتمند مسلمان، ماں ،کی قوم کی بچیوں کےنام " پیغام

Monday, 12 June 2017

نڈس ڈولفن کا شمار پاکستان میں پائی جانے والی نایاب مچھلیوں میں ہوتا ہے۔

www.swatsmn.com

دنیا میں ڈالفن کی چار اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں ایک نابینا ڈالفن ہے جو کہ صرف دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے ۔ مقامی طور پر اس مچھلی کو بلھن کہا جاتا ہے۔ جینیاتی طور پر یہ مچہلی نابینا نہیں ہوتی بلکہ سالوں سے دریائے سندھ کا مٹی والا پانی اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس کے نابینا ہونے کی وجہ بتائی جاتی ہے۔
انڈس ڈالفن کوئی معذور مچھلی نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نابینا بلھن کی آنکھ دن اور رات میں فرق کرسکتی ہے اور تیرنے اور راستے کی معلومات کیے لیے یہ مچھلی آواز نکالتی ہے جس کی بازگشت پلٹ کر اس تک پہنچتی ہے جسے وہ قدرتی طور پر اپنے ماتھے پر وصول کرتی ہے۔ اس سے یہ نابینا ڈالفن چیزوں کی پہچان اور راستوں کا پتہ چلاتی ہے۔
یک طرف تو اس نابینا ڈولفن کے وجود کو مسلسل کرچی کرچی کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کچے کے علاقے میں زراعت کیلئے کھاد اور کیڑے مار ادویات کے استعمال کے وجہ سے زہریلے کیمیکل دریائے سندھ میں شامل ہوکر پانی کو زہریلا کردیتے ہیں، جو ان نابینا ڈولفن کی اموات کا سبب بنتا ہے۔
انڈس ڈولفن کا شمار پاکستان میں پائی جانے والی نایاب مچھلیوں میں ہوتا ہے۔ آئے روز انڈس ڈولفن دریائے سندھ سے نکلنے والے نہروں میں بہہ جاتی ہے جہاں راستہ تنگ ہونے کے باعث اکثر وہ پھنس جاتی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے دریائے سندھ میں یہ نایاب مچھلی اکثر و بیشتر نہروں میں مردہ پائی جاتی رہی ہے۔
دریائے سندھ میں پائی جانے والی اس نایاب نسل کی مچھلی کی اصل تعداد کے بارے میں اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے تاہم جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے قائم صوبائی ادارے کے محتاط اندازوں کے ان کی تعداد تقریباً 700 سے 800 ہے جو گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان گھومتی رہتی ہیں۔
انڈس ڈولفن کا شمار ان جانداروں میں ہوتا ہے جن کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انڈس ڈولفن ماحول کی بقا کیلئے کام کرنیوالے عالمی اداروں کی ریڈ لسٹ میں بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ مچھلی مکمل طور پر ناپید ہو جائے گی۔
ایک مقامی تحقیق کے مطابق دریائے سندھ میں پائی جانے والی نابینا ڈالفن کی نسل مختلف طریقوں سے شکار کے باعث تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ ہمیں چاہے کہ انڈس ڈالفن کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان کی نسلی اور جنسی زیادتی کے حوالے سے ایک آگاہی مہم کا آغاز کریں اور عالمی ادارے بھی ان محصوم ڈالفن کو جنسی زیادتی سے بچانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ فوری طور پر ان نابینا ڈولفن کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو روکا جائے

with Thanks .. hum .. onlinnews

Friday, 9 June 2017

جس نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ھے

www.swatsmn.com
Wrong number #گھر کے موبائل نمبر پر رانگ #نمبر سے کال آئی۔۔ گھر میں ایک عورت نے  موبائل کو رسیو کیا تو آگے سے غیر انجانی آواز سن کر عورت نے کہا سوری رانگ نمبر ھے- اور فون بند کردیا- لڑکے نے جب ہیلو کی آواز سن لی تو وہ سمجھ گیا کہ یہ کسی لڑکی کا نمبر ھے-
اب اس رانگ نمبر کو ملانے والا لڑکا مسلسل اسی نمبر پر کال کرتا رہتا، لیکن وہ عورت فون نہ اٹھاتی- پھر وہ میسج کرتا کہ جانو بات کرو ناں۔ موبائل کیوں نہیں رسیو کرتی؟ عورت کی ساس بڑی مکار اور لڑائی جھگڑے والی خاتون تھی
اس واقے کے ایک دن بعد موبائل پر رنگ ٹون بجی تو ساس نے موبائل رسیو کیا آگے سے لڑکے کی آواز سن کر ساس خاموش ہو گئی ' لڑکا بار بار کہتا رہا کہ جانی مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی میری بات تو سنو پلیز، تمہاری آواز نے مجھے پاگل کر دیا ھے. بلاہ بلاہ بلاہ
ساس نے خاموشی سے سن کر موبائل بند کر دیا۔۔
اب جب رات کو عورت کا شوہر گھر آیا تو ساس نے علیحدہ بلا کر اپنے بہو پر بد چلنی اور نامعلوم لڑکے سے یارانے کا الزام لگایا۔۔
شوہر نے اسی وقت جاہلیت کا کردار ادا کرکے بیوی کی ایک بھی نہیں سنی اور بیوی کو رسی سے باندھ کر بے انتہا تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ جب وہ تشدد سے فارغ ہوا تو ساس نے موبائل ہاتھ میں تھما دی اور کہا کہ یہ نمبر ھے تمہاری بیوی کے یار کا۔۔
شوہر نے موبائل کالز چیک کیں اور اس کے بعد میسج چیک کئیے تو لڑکے کے تمام میسجز موجود تھے جس میں کہا گیا تھا کہ جانی کیسی ہو جانی بات کرو ناں جانی تمہاری آواز نے مجھے پاگل کر دیا ھے.
جاہل شوہر تمام میسج پڑھ کر اور بھی سیخ پا ہوا اور ادھر ساس نے بہو کے بھائی کو فون کرکے بتایا کہ تمہاری بہن کو ہم نے اپنے یار کے ساتھ موبائل پر بات کرتے ہوئے اور میسج کرتے ہو پکڑ لیا ہیں۔۔
جس نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ھے.
اسی وقت اس لڑکی کی بھائی اور ماں فورأ اپنی بیٹی کی گھر آئے ادھر لڑکی کی ساس اور شوہر نے اس کے بھائی اور ماں کو طعنے دے کر کہ تمہاری بہن بد چلن ھے زانی ھے اور یہ اپنے یار کے ساتھ موبائل پر گپ شپ لگاتی اور ہماری عزت خاک میں ملاتی ھے.
اس لڑکی کی بھائی نے بھی زمانہ جاہلیت کو مات دی اور اپنے بہن کو بالوں سے پکڑ کر خوب زدو کوب کیا۔۔
لڑکی قسمیں کھا کر اپنے صفائی پیش کرتی رہی لیکن جاہل اور شیطان ساس اور شوہر کے آگے بے بس رہی۔۔
لڑکی کی ماں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ نہا دو کر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنی صفائی پیش کرو لڑکی نے نہا دھو کر قران پاک پر بھی سب کے سامنے ہاتھ رکھ لیا لیکن شیطان ساس نے اس کو بھی ٹھکرا دیا اور کہا کہ جو لڑکی اپنے شوہر سے غداری کر سکتی ھے تو اس کے لئے قرآن پاک پر ہاتھ رکھنا بھی کوئی مشکل کام نہی ھے.
اور اس کے ساتھ لڑکی کے جاہل شوہر نے وہ سارے میسجز لڑکی کے بھائی کو دکھا دئیے جو لڑکے نے لڑکی کو ایمپریس کرنے کے لئے کئیے تھے۔۔
لڑکی کی ساس نے جلتی پر تیل چھڑکا کر کہا کہ تمہاری بہن چالاک اور مکار ھے.
جس پر لڑکی کے بھائی کو غیرت آئ اور اس نے طیش میں آکر اپنی بہن کی ایک بھی نہ سنی اور پستول نکال کر اپنے بہن کے سر میں چار گولیاں پیوست کر دیں.
اور یوں ایک رانگ نمبر کی وجہ سے ایک خاندان اجڑ گیا 6 بچے یتیم ہو گئے۔۔
جب لڑکی کے دوسرے بھائی کو خبر ہوئی تو اس نے اپنے بھائی اور بھابی اور بہن کی شوہر اور ساس پر اور نامعلوم نمبر پر ایف آئ آر کٹوا دی.
جب پولیس نے اس موبائل کے ڈیٹا کو چیک کیا- تو معلوم ہوا کہ لڑکی نے صرف ایک دفعہ رانگ نمبر کو رسیو کیا تھا۔۔ اور پھر وہ رانگ نمبر مسلسل میسجز اور کالز کے ذریعئے سے اس لڑکی کو پھنسانے کے چکر میں لگا رہا۔۔
موبائل فون کی ڈیٹا رپورٹ منظر عام پر آنے سے لڑکی کے جس بھائی نے بہن کو گولی ماری تھی اس نے اسی وقت جیل میں خودکشی کی اور رانگ نمبر ملانے والے لڑکے کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل میں ڈالا۔۔
یوں ایک رانگ نمبر نے 3 دنوں کے اندر ایک پاک دامن عورت کو اس کے 6 بچوں سے پوری زندگی کے لئے جدا کردیا.
اور 10 دنوں کے بعد لڑکی کے بھائی نے خودکشی کر کے ایک اور عورت کو بیوہ اور اس کے 4 بچوں کو یتیم کردیا۔۔
یوں 13 دنوں کے اندر 10 بچے یتیم اور 2 خاندان تباہ و برباد ہو گئے.
ذرا سوچیئے اور بتائیں قصوروار کون۔۔؟
1: بےغیرت رانگ کال والا
2: مکار ساس
3: شکی و جاھل خاوند
4: نام نہاد غیرت مند بھائ
-----یا-----
ہمارا معاشرہ ؟؟.

Wednesday, 7 June 2017

مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،

www.swatsmn.com
بابا جی! کل میرے گھر میں افطاری ہے، قریباً سو احباب ہونگے، مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں، کتنے پیسے دے جاوں؟ میں نے پوچھا،
بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
 "کتنے پیسے دے سکتے ہو"
مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،
 مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی،
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے،
بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے،
وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو، کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا،
میری پریشانی تم نے حل کر دی، افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے، اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی۔
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی۔
وہ کون ہے آپکی ؟؟
میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے،
 وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو، رشتے کیا ہوتے ہیں، جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا، پچھلے تین گھنٹے سے کھڑی ہے، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے۔
تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے رشتوں کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا۔
"اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں، صرف بھوک ہے بھوک"
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا، اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا، یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے بابا جی کے تھے، میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے۔
بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی؟
اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا، اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے،
 اے کاش، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں۔
تحریر :: #عوام_کی_آواز

10th National Desert Hike 2025 (Rambler Badge Hike for Rover Scouts)

10th National Desert Hike 2025  (Rambler Badge Hike for Rover Scouts) Chulistan ,روحی   نیشنل ڈزرٹ ہائیک 2025 تاریخِ عالم اس امر کی شاہد ہے ...